معروف امریکی میوزک بینڈ ’ریننگ جین‘نے پاکستان میں 2 ہفتوں پر محیط اپنے حالیہ دورے کا آخری پڑاؤ کراچی میں کیا، جہاں بینڈ کی زیر قیادت طالب علموں کے جیم اینڈ لرن سیشنز اور موسیقی پر ورکشاپس کا انعقاد ہوا, جس میں انہوں نے کراچی بھر سے آئے موسیقی کی شائقین کے ساتھ سحر انگیز آواز میں فن کا مظاہرہ بھی کیا۔
آرٹس کاؤنسل آف پاکستان اور نیشنل اکیڈمی آف آرٹس کے ساتھ مصروف عمل امریکی میوزک بینڈ کراچی میں موسیقی کے متنوع منظرنامے کا مداح بن گیا۔ ریننگ جین کی ممبر گلوکار ہ اور سیلو سے ساز چھیڑنے والی مائے بلوم فیلڈ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں جس گرم جوشی سے استقبال اور مہمان نوازی کی گئی، وہ باعث مسرت ہے، یہاں کے لوگوں سے ملنے والی محبت اور خوشی نے ہمارے دل جیت لیے ہیں۔ اس کے ساتھ مقامی باصلاحیت فنکاروں سے جڑنے اور بین الثقافتی مکالمے میں موسیقی کے ذریعے اپنا حصہ ڈالنے کا جو موقع ملا، وہ کسی اعزاز سے کم نہیں‘۔
آرٹس کاؤنسل کراچی میں ریننگ جین کیجانب سے ورکشاپ کا آغاز ہوا، جہاں انہوں نے لیاری سے تعلق رکھنے والے 50 بچوں کے ساتھ موسیقی کی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ بینڈ نے ورکشاپ میں شریک نوجوانوں کو فوک موسیقی کی دنیا سے روشناس کرایا، جبکہ موسیقی آلات اور رہنمائی فراہم کرتے ہوئے باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی۔
امریکا کے شاندار ثقافتی ورثے کی طرح پاکستان کی متحرک روایات کے مناظر اس ایونٹ میں دیکھنے کو ملے۔ علاہ ازیں اس دورے کا خاص پہلو نیشنل اکیڈمی آف آرٹ میں منقعدہ ویمنز پرفارمنگ آرٹ فیسٹیول میں شرکت کا موقع تھا، جہاں فنی مہارتوں، نغمہ نگاری اور فنکارانہ صلاحیتوں میں بہتری پر مرکوز ورکشاپ میں بینڈ نے قائدانہ ذمہ داریاں انجام دیں، جبکہ ایک کنسرٹ میں شرکت کرنے والوں کی سریلی آواز میں گیتوں اور تالیوں کی گونج سے دن کا اختتام ہوا۔
ریننگ جین نے کراچی کو الوداع کرنے سے قبل امریکی قونصل خانہ میں آخری کنسرٹ کی میزبانی کی گئی، جہاں انہوں نے اپنے مشہور گانوں کے علاوہ اردو زبان میں پاکستان کا مشہور ملی نغمہ ’دل دل پاکستان‘ گا کر خوب داد سمیٹی۔
اس کنسرٹ میں موسیقاروں اور فن کی دنیا کے نمائندگان سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی، جنہوں نے محبت کے تبادلے پر مرکوز میوزک کے ساتھ جشن منایا، جسے امریکا اور پاکستان دنوں ملکوں میں خوب پسند کیا جاتا ہے۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امریکی قونصل جنرل کانرڈ ٹربل نے کہا کہ ’خطے کے بہترین فنکاروں کے ہمراہ ریننگ جین کی موہ لینے والی دھنوں کو سننے کا موقع ناقابل فراموش تھا۔ امریکا اور پاکستان کے موسیقی کے امتزاج کی ایک خاص بات ہوتی ہے، جسے سن کر محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے‘۔
ریننگ جین امریکا کے موسیقی سے وابستہ درجنوں فنکاروں میں سے ایک ہے، جو کہ امریکی محکمہ خارجہ کے گلوبل میوزک ڈپلومیسی انیشی ایٹو کے ذریعے عالمی سطح پر موسیقی کی سفیر کا کام کر رہا ہے۔ یہ بینڈ دنیا میں بین الثقافتی تفہیم اور موسیقی کے ذریعے سماجی رویوں میں تبدیلی کا خواہاں ہے۔
اوکاڑہ: پولیس نے لڑکی بن کربچوں کو بلیک میل کرکے زیادتی کرنیوالے گینگ کا سرغنہ گرفتار کر لیا۔
انہ گوگیرہ پولیس نے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیئے، ملزمان کم عمر لڑکوں کو لڑکی کے نام سے واٹس ایپ اور انسٹاگرام پر پھنساتے تھے، ملزمان فحش تصویریں بنا کر بلیک میل کرتے اور پیسوں کی ڈیمانڈ کرتے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے جعلی فیس بک آئی ڈی اوکاڑہ کے باپ کے نام سے بنا رکھی تھی، ملزمان متعدد لڑکوں کو ہوس کا شکار بنا چکے، ملزم سے پولیس کی ابتدائی تفتیش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق گینگ میں سخاوت، سرور، رمضان سمیت 5 ملزمان شامل ہیں، گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے ، مزید انکشافات کی تو قع ہے۔
ڈی پی او اوکاڑہ طارق عزیز نے بتایا کہ ملزم کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے پولیس کی سپیشل ٹیم کام کر رہی ہے، جلد گرفتار کر لیں گے، تفتیش میرٹ پر ہو گی، انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق بہاولنگر کے نواحی علاقے کھائی بودلہ میں جن نکالنے کے بہانے جعلی عامل اور اس کے چیلوں نے نوجوان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ دم توڑ گیا، مرنے والے نوجوان کی شناخت 20 سالہ ذوالقرنین کے نام سے ہوئی۔
واقعے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاش قبضے میں لے کر ہسپتال منتقل کر دی، پولیس نے ملزمان کے خلاف تھانہ تخت محل میں مقدمہ درج کر لیا اور گرفتاری کیلئے چھاپے مارنے شروع کر دیئے۔
ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس نے بتایا ہے کہ جعلی پیر اظہر شاہ اور اس کے چیلوں نے ذوالقرنین کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی، نوجوان پر تشدد میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر لیں گے۔
ادھر کھڈیاں خاص کے گاؤں ڈھولن ہٹھاڑ چاہ میں بھانجے نے جائیداد کے تنازع پر فائرنگ کر کے سگے ماموں کو موت کے گھات اتار دیا، مقتول محمد حسن اپنے بھانجے ساجد کو گاؤں چھوڑنے جا رہا تھا کہ راستے میں ملزم نے گولیاں مار دیں، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔
جموں و کشمیر کی گرمائی دارالحکومت سرینگر میں چند روز قبل ایس کے آئی سی سی میں فیشن شو منعقد کیا گیا تھا، جس کے خلاف آج باحجاب خواتین نے خاموش احتجاجی ریلی نکالی۔
یہ ریلی نہرو پارک سے شروع ہوئی اور ایس کے آئی سی سی پر ختم ہوئی، جس میں تقریباً درجنوں باحجاب خواتین نے شرکت کی، جن کے ہاتھوں میں احتجاج کے طور پر پلے کارڈس تھے، جس پر حجاب پہنوں اور بے حیائی بند کرو جیسے نعرے درج تھے۔
ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے ایک خاتون نے کہا کہ اسلام میں خواتین کو پردہ کرنے کا درس دیا گیا ہے اور برائی سے دور رہنے اور دوسروں کو بچنے کی تلقین کرنے کی بھی تعیلم دی گئی ہے، اسی کے پیش نظر آج خاموش احتجاجی ریلی نکال بے حیائی کو ختم کرنے کی اپیل کررہے ہیں۔
اس موقع پر احتجاج کررہی خواتین نے فیشن شو جیسے پروگرام کو بندکرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سنتور ہوٹل میں منعقد فیشن شوز سے بے حیائی عام ہوتی ہے، جو اسلام کے خلاف ہے اور خاص کر وادی کشمیر میں ایسے شوز منعقد کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا، کیونکہ کشمیر پوری دنیا میں ایک پیر وار کے نام سے جانی جاتی ہے اور تہذیب و تمدن اور سادگی ہماری پہچان ہے جسے ہماری آنی نسلوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔
اسلام آباد: حکومت نے ایف بی آر کو نان فائلرز کے خلاف پلان بی پر عملدرآمد کیلئے گرین سگنل دے دیا۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق نان فائلرز کے خلاف 15 مئی کے بعد ایکشن لیا جائے گا جس کے تحت اگر نان فائلرز کی سم بند نہ ہوئی تو اضافی ودہولڈنگ ٹیکس لانے اور نان فائلرز کی سم پر 2.5 فیصد اضافی ٹیکس لگانے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ نان فائلرز کے ہر دفعہ لوڈ کرانے پر اضافی ٹیکس، موبائل اور ڈیٹا لوڈ پر بھی اضافی ٹیکس لانے پر غور کیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق نان فائلرز کی سمز بند کروانے کا ڈیٹا پی ٹی اے کے سپرد کردیا گیا ہے، 15 مئی تک نان فائلرز کی سمزبند نہ کی گئیں تو ایف بی آر کمپنیوں کے خلاف کارروائی پرغور کرے گا۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ 10 دن سے زائد گزرنے کے باوجود ٹیلی کام کمپنیوں نے سمز بند کرنے کے احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا جس حوالے سے قانونی ٹیم سے مشاورت کی جائے گی اور ٹیلی کام کمپنیوں کے خلاف عدالت میں درخواست دائرکی جائے گی۔
کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 2 میں کار شوروم پر فائرنگ سے شوروم مالک جاں بحق ہوگیا۔
پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت کمال صدیقی کے نام سے ہوئی ہے۔ شفیع خان نام کے شخص کا کمال سے پیسوں کے لین دین کا معاملہ تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم شفیع خان نے تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کردی اور خود کو بھی زخمی کرلیا۔
پولیس کے مطابق شوروم کا مالک کمال صدیقی اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا۔
پولیس کا کہنا ہےکہ ملزم شفیع خان کو جناح اسپتال سےگرفتار کرلیا گیا ہے، ملزم کا اسلحہ بھی ضبط کرلیا گیا ہے۔
کند ھ کوٹ: کچے کے علاقے کے ڈاکوﺅں کی وارداتیں عرصہ دراز سے جاری ہیں۔ لوگوں کو اغوا کرنا، یرغمال بنانا اور قتل جیسی وارداتیں ان کا وتیرہ ہے۔ کچے کے ڈاکو سرِعام شہریوں کو اغوا کرکے جسمانی تشدد کی ویڈیوز بناتے اور اہل خانہ سے کروڑوں روپے تاوان مانگتے ہیں اور تاوان نہ ملنے کی صورت میں مغوی کو بے دردی سے قتل کرکے لاش ویرانے میں پھینک دی جاتی ہے۔ ایسی ہی اغوا برائے تاوان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں کچے کے ڈاکوو¿ں نے 5 سالہ بچے کو اغوا کرکے زنجیروں سے لٹکا دیا ہے۔25 روز قبل ڈاکووں کے ہاتھوں اغوا ہونے والا 5 سالہ بچہ ایاز پٹھان بازیاب نہ ہو سکا.مغوی بچے کی بازیابی کیلئے ڈاکووں نے ورثاء سے 50 لاکھ روپے تاوان طلب کرلیا.ویڈیو سے متعلق بتایا گیا ہے کہ کندھ کوٹ میں ڈاکووں نے کمسن ایاز پٹھان کو 14 اپریل کو گڈو کشمور سے باہر کھیلتے ہوئے اغوا کیا اور بچے کی رہائی کے بدلے 50 لاکھ روپے تاوان طلب کیا تھا۔ تاوان کی وصولی کے لئے ڈاکووں نے آج معصوم بچے کو زنجیروں سے جکڑ کر ویڈیو وائرل کردی۔ بچہ زنجیروں سے جکڑا ہوا زارو قطار رو رہا ہے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچہ زنجیروں سے جکڑا ہوا زارو قطار رو رہا ہے۔ ویڈیو میں مغوی بچہ اپنے ورثا سے اپیل کررہا ہے کہ ڈاکووں کو پیسے دے کر میری جان چھڑوائیں۔طارق سہیل اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کچے کے ڈاکووں نے اس 5 سالہ بچے کو اغوا کرکے لٹکا دیا ہے، انہوں نے اس واقعہ پر ریاست کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست وفات پا چکی ہے۔ایک ایکس صارف نے کہا کہ اس بدقسمتی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کون اس معصوم کی بے بسی کو دیکھے گا۔ خدا ہی ہے جو اپنا کرم فرمائے۔محمد رحمان لکھتے ہیں کہ پتا نہیں ریاست ان غنڈوں کے آگے کیوں بے بس ہے، انہوں نے سوال کیا کہ آخر کب تک یہ ظلم ہوگا؟۔
معروف صحافی چیف میڈیا کوآرڈینیٹر ٹیم ھیومن رائٹس پاکستان ، کراچی ٹی وی سھیل جاوید کی انسانی حقوق کے رہنما چیئرمین اسحاق شیخ سے ھیومن رائٹس سیکرٹریٹ میں اسلام آباد واپسی پر اھم ملاقات. یہ میٹنگ ہیومن رائٹس سیکرٹریٹ میں ہوئی اور اس میں انسانی حقوق کے اہم مسائل اور ان کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس کے علاوہ ٹیم ھیومن رائٹس پاکستان اور کراچی ٹی وی چینل پر ڈجیٹل انداز میں کام کرنے پر فیصلہ کیا گیا.
رپورٹ علوینا شیخ
ٹیم ہیومن رائٹس پاکستان کے چیئرمین اسحاق شیخ نے حال ہی میں ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ سے اہم ملاقات کی۔ اس اجتماع کا مقصد خطے میں انسانی حقوق کے اہم مسائل پر بات چیت اور تعاون کو فروغ دینا تھا۔ انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے عزم کے ساتھ، شیخ اور بلوچ نے اہم خدشات کو دور کرنے اور افراد کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ان کا تعاون سب کے لیے بنیادی آزادیوں اور انصاف کو برقرار رکھنے میں سول سوسائٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان شراکت کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
ملاقات میں انسانی حقوق کی پامالیوں ،امن امان ، اسٹریٹ کرائیم سیکیورٹی مسائل پر گفتگو ھوئی
وفد مین عامر عطا ، سھیل جاوید ، فیروزھ بانو ، عائشہ ، علوینا شیخ ، شامل تھیں
لاہور کے علاقے چوہنگ میں 5 ڈاکوؤں نے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر گھر کا صفایا کردیا۔
ڈکیتی کی واردات تھانہ چوہنگ کے علاقے میں صبح کے وقت ہوئی جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 5 ڈاکو کار پر آئے اور گھر والوں کو یرغمال بنا کر لوٹ لیا۔
فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈاکو اپنی گاڑی میں سامان رکھ کر اطمینان سے فرار ہو رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکو طلائی زیورات، کیش اور دیگر سامان لوٹ کر فرار ہو گئے جب کہ واردات کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔
شکیلہ عامر ایسٹرن فیڈرل یونین انشورنس کمپنی لمیٹڈ میں ایک تجربہ کار ماڈل اور سیلز کنسلٹنٹ ہیں۔ گلیمر انڈسٹری اور مالیاتی شعبے دونوں میں مہارت کے ساتھ، وہ اپنے کردار میں کرشمہ اور کاروباری ذہانت کا ایک انوکھا امتزاج لاتی ہیں۔ شکیلہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت، کلائنٹ کی اطمینان کے لیے لگن، اور اپنے کام میں انداز اور مادے کے درمیان فرق کو ختم کرنے کی صلاحیت کے لیے جانی جاتی ہیں۔
کراچی: کھارادر میں قائم جماعت خانہ کے گارڈ کو سر پر ہتھوڑا مار کر پستول چھیننے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈاکس کے علاقے میں قائم کھارادر آغاز خانی جماعت خانہ کا سیکورٹی گارڈ کرسی پر بیٹھا اپنی ڈیوٹی انجام دے رہاہوتا ہے کہ ایک ملزم ہاتھ میں ہتھوڑا لئے سیکورٹی گارڈ پر حملہ آور ہوتا ہے۔
سیکورٹی گارڈ کے سر پر زور سے ہتھوڑا مار کر اس کی پستول چھین لیتا ہے اور جماعت خانے کے پاس کھڑے مسافروں کو اسلحہ کے زور پر موبائل فون، نقدی اور دیگر قیمتی اشیاسے محروم کردیتا ہے اور با آسانی فرار ہوجاتا ہے۔
رابطہ کرنے پر ایس ایچ او پرویز سولنگی نے بتایا کہ واقعے کا مقدمہ سیکورٹی گارڈ اللہ بچایو کی مدعیت میں درج کرلیا ہے، واقعے میں ملوث ملزم کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا، واضح رہے کہ جماعت خانہ ڈاکس تھانے سے چند قدم کے فاصلے پر قائم ہے۔
کراچی: کورنگی بلال کالونی میں منشیات فروشوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے 2 دوستوں کو قتل کر دیا اور فرار ہوگئے ۔
پولیس کے مطابق مقتولین اپنی دکانیں بند کر کے گھر جا رہے تھے کہ گھات لگائے ملزمان نے موٹرسائیکل سے ٹکر مار کر انہیں نیچے گرایا ، ایک درجن سے زائد گولیاں برسائیں اور فرار ہوگئے ۔ مقتولین کا آبائی تعلق خیبر پختونخوا اور اندرون سندھ سے تھا ۔
واقعہ انڈسٹریل ایریا کورنگی کے علاقے بلال کالونی مین روڈ لاشاری میڈیکل اسٹور غریب نواز مسجد کے قریب پیش آیا۔ جاں بحق ہونے والوں دوستوں کی شناخت 36 سالہ امتیاز ولد نثار احمد اور 40 سالہ محمد علی کے ناموں سے ہوئی۔ مقتول امتیاز کورنگی انڈسٹریل ایریا سیکٹر 8 سی بلال کالونی کا رہائشی اور 6 بچوں کا باپ تھا اور گاڑیوں کا مکینک تھا ۔ اس کا بلال چورنگی کے قریب گیراج ہے ۔ آبائی تعلق کوہاٹ سے تھا ۔
مقتول محمد علی کورنگی بلال کالونی بنگالی بازار کا رہائشی اور 5 بچوں کا باپ تھا جب کہ وہ موٹرسائیکل کا مکینک تھا اور مقتول امتیاز کی دکان کے برابر والی دکان اس کی تھی ۔ مقتولین آپس میں بچپن کے دوست تھے ۔ آبائی تعلق اندرون سندھ نوشہرو فیروز سے تھا ۔
عینی شاہدین کے مطابق اتوار کی شب تقریباً ساڑھے 11 بجے امتیاز اور محمد علی دکان پر کام ختم کر کے گھر واپس جا رہے تھے کہ بلال کالونی مین بازار والی گلی میں 125 موٹرسائیکل پر سوار 3 افراد آئے اور انہوں نے پہلے محمد علی کی موٹرسائیکل کو ٹکر مار کر گرایا اور پھر اندھا دھند فائرنگ کر دی ۔ ملزمان نے ابتدائی طور پر دونوں پر 4 گولیاں برسائیں اور چلے گئے ۔ کچھ فاصلے پر جانے کے بعد ملزمان واپس آئے اور ایک مرتبہ پھر انہوں نے دونوں پر گولیاں برسائیں اور اور پھر اسلحہ لہراتے ہوئے موقع سے فرار ہوگئے ۔
علاقہ مکینوں کے مطابق فائرنگ کرنے والے تینوں ملزمان منشیات فروش اور ڈکیت ہیں ۔ تینوں کو کچھ عرصہ قبل امتیاز اور محمد علی نے پولیس کے ہاتھوں پکڑوایا تھا ۔ ملزمان نے اپنا بدلہ لینے کے لیے دونوں کو قتل کیا ہے ۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ایک درجن سے زائد فائر کیے، جس میں مقتول امتیاز کو 6 اور محمد علی کو 2 گولیاں لگیں ۔ پولیس کو جائے وقوع سے 30 بور پستول کے 3 خول ملے ہیں ۔ پولیس نے جناح اسپتال میں پوسٹ مارٹم اور ضابطے کی کارروائی کے بعد مقتولین کی لاشیں ورثا کے حوالے کر دیں۔
دوسری جانب کورنگی بلال کالونی میں فائرنگ کے واقعے میں 2 دوستوں کے قتل کا مقدمہ الزام نمبر24/559 قتل کی دفعہ کے تحت 5 ملزمان کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے میں 5 ملزمان سلطان ،نادر، نعمان عرف شاہو پٹھان ، دانش اور ایک صورت شناس نامعلوم ملزم کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں جب کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
نئی دہلی فون استعمال کرنے سے منع کرنے پر بہن نے اپنے بڑے بھائی کو قتل کر دیا۔
ساتھی خواجہ سرا پر پولیس تشدد کے خلاف خواجہ سراؤں نے تھانہ صدر کھاریاں پر دھاوا بول دیا۔
پولیس کے مطابق خواجہ سرا زبردستی تھانے میں گھس آئے اور فرنیچر باہر سڑک پر پھینک دیا، خواجہ سراؤں نے تھانے ہر پتھراؤ بھی کیا۔
خواجہ سراؤں نے جی ٹی روڈ کھاریاں بلاک کر کے احتجاجی دھرنا دے دیا، خواجہ سراؤں کا مؤقف تھا کہ گزشتہ شب پولیس اہلکاروں نے خواجہ سراؤں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کو رات بھر بلاوجہ حراست میں بھی رکھا گیا۔
پولیس کاکہنا ہے کہ خواجہ سرا پر تشدد کی تفتیش کریں گے، جرم ثابت ہونے پر اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں کالے جادو کے شبے میں ملزمان نے خاتون سمیت دو افراد کو تشدد کے بعد پیٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یکم مئی کو گڈچرولی ضلع کے ایک گاؤں میں لوگ اکٹھے ہوئے اور پنچایت بلائی گئی۔ اس میں خاتون اور ایک شخص پر کالے جادو کا الزام لگایا گیا۔
پنچایت میں مقتولین پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے کالے جادو سے گاؤں کے ایک بچے کی جان لی جس کی عمر ساڑھے تین سال تھی۔
کمسن کی موت پر ناراض گاؤں والوں نے دونوں پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ مقتولین کی شناخت 52 سالہ جمنی دیواجی تلامی اور 57 سالہ دیشو کٹیا اتلمی کے نام سے ہوئی۔
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے تحقیقات شروع کیں اور 15 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان پر متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے گرفتار ملزمان کو مقامی عدالت میں پیش کیا جہاں انہیں پانچ دن کیلیے پولیس کی تحویل میں دیا گیا